اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ایرانی روزنامہ نویس مہدی جہان تیغی نے "مشرق نیوز" ویب بیس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سیستان و بلوچستان کے ایک سنی امام جمعہ کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مولوی مصطفی جنگی زہی پر قاتلانہ حملہ درحقیقت ایک انجنیئرڈ منصوبے کا نتیجہ تھا جبکہ شہید عالم دین انقلاب اسلامی کا شمار اور امام خمینی اور رہبر انقلاب امام خامنہ ای کے اصلی حامیوں میں ہوتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آل سعود سے وابستہ خفیہ ایجنسیاں علاقے میں امریکہ اور اسرائیل کے مشن کے لئے شدت کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔انھوں نے کہا: متعدد شواہد و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی اس کاروائی کی منصوبہ بندی نہایت اہم مقاصد کے حصول کے لئے تھی۔انھوں نے کہا کہ مولوی جنگی زہی نہایت اہم خصوصیات کے حامل تھے جن میں یہ خصوصیات خاص طور پر قابل ذکر ہیں:1۔ وہابیت اور آل سعود کے سخت مخالف تھے۔2۔ ، اندرونی فتنہ پردازوں کے سخت مخالف تھے۔3۔ سیستان و بلوچستان میں امام خمینی اور امام خامنہ ای کے مکتب فکر کے سخت حامی تھے۔انھوں نے کہا کہ شہید جنگی زہی ان خصوصیات کی وجہ سے سیستان و بلوچستان کے نہایت اہم عالم دین کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی سرگرمیاں جنوب مشرقی علاقے میں فعال بیرونی بالخصوص امریکی اور ان کی حامی عرب اور غیر عرب ایجنسیوں نیز وہابیت کے پرچارکوں کے لئے اذیتناک ہوچکی تھیں؛ کیونکہ بلوچوں میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہوچکا تھا چنانچہ جب ہم ان خصوصیات کی طرف توجہ دیتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذات یا ان کے مقام و منزلت کو مٹانا، دہشت گردی کی اس کاروائی کی پس پردہ قوتوں کا اصلی ہدف نہیں ہوسکتا تھا۔اسی بنا پر ہم دیکھتے تھے کہ معدوم ریگی ٹولے نے انہیں کئی بار دھمکیاں دی تھیں اور یہ بات آج روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریگی ٹولہ امریکہ اور اسرائیل کی گود میں کھیلتا رہا ہے۔ایک وضاحت: حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی "موساد" کے ایجنٹوں نے ریگی ٹولے کے بعض سرغنوں کو لندن بلوایا تھا اور وہاں سی آئی اے کے ایجنٹوں کے عنوان سے ان سے ملے تھے اور انہیں ایران میں دہشت گردی کاروائیوں کے سلسلے میں تربیت اور مالی امداد فراہم کی تھی۔مہدی جہان تیغی نے کہا کہ ریگی ٹولے نے شہید عالم دین کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو بھی دھمکیاں دی تھیں لیکن یہ ٹولہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔ انھوں نے کہا: ریگی ٹولہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی خفیہ جنگ کا حصہ ہے جو امریکیوں کے خیال میں معاشی پابندیوں کی رہی سہی کسر پوری کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: جب ہم اس کاروائی کو اس زاويئے سے دیکھیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ آل سعود کی خفیہ ایجنسیوں کا کردار بھی مستقبل میں زیادہ واضح ہوکر سامنے آئے گا اور یوں شہید جنگی زہی کے قتل کا معمہ حل ہونا آسان ہوجائے گا۔ انھوں نے کہا: دستیاب دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کو مشرقی ایران تین اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں:1۔ اہل سنت کے بعض دینی مدارس کو بے تحاشا مالی امداد دے کر وہاں وہابی تفکرات کو گہرائی بخشنا اور بلوچ نوجوانوں کو وہابیت کے دائرے میں داخل کرنا۔2۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے حامی سنی علماء کے لئے امن و امان کے مسائل کھڑے کرنا اور ان کے وجود و کردار کے اخراجات میں اضافہ کرنا اور اس سلسلے میں وہابی دہشت گرد ٹولوں کی تشکیل نیز تشہیری عناصر کی تربیت جو سنی معاشرے میں ایسے علماء کو بدنام کرنے کے عوض آل سعود سے بڑی رقومات ہتھیالیتے ہیں۔3۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو سنی مخالف ملک کے طور پر متعارف کرانا جو دنیا اور خطے میں "ایران فوبیا" کے استعماری منصوبے کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں آل سعود کے تشہیری ادارے اور ریڈیو، ٹیلی ویژن ، اخبارات، وہابی منبر و محراب، اور ویب سائٹوں کا کردار بھی کسی طور نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ آل سعود کے تشہیری ادارے ریگی ٹولے کو ابلاغی پشت پناہی بھی فراہم کرتے ہیں اور کبھی تو لگتا ہے کہ سعودی ذرائع کا دہشت گردوں کی حمایت کے سوا کوئی کام ہی نہیں ہے۔ یہ ادارے سیستان و بلوچستان نیز علاقے کے تمام معاشروں کو سنی اور شیعہ کی بنیاد پر تقسیم کرکے پیش کرتے ہیں جبکہ شہید جنگی زہی جیسے مجاہد علماء کی موجودگی ان سعودی، وہابی اور درحقیقت امریکی اور اسرائیلی اہداف کی راہ میں اہم رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا: شہید جنگی زہی کی شہادت سے چند ہی روز قبل ریگی ٹولے کے ایک سرغنے نے جزیرة العرب جاکر آل سعود کے سیکورٹی اہلکاروں سے ملاقات کی تھی اور حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید جنگی زہی کے قتل کا ایک نہایت اہم مقصد سیستان و بلوچستان میں وہابیت کے فروغ کے لئے زمین ہموار کرنا تھا۔ انھوں نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برطانیہ کی لے پالک وہابیت دین کے لئے فعالیت نہیں کرتی بلکہ اپنے لئے سپاہی بھرتی کرواتی ہے جو وہابیت کی نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ نیز اسرائیل کی خدمت پر مامور ہیں جبکہ ایران نے افغانستان، بوسنیا اور فلسطین میں اسلام کی تقویت کے لئے سنی مسلمانوں کے ساتھ بھر پور تعاون کرتا آیا ہے اور یہ تعاون بدستور جاری ہے اور اگر ایران بھی آل سعود کی مانند فرقہ واریت پر اپنی بنیادیں استوار کرنے کی غیر انسانی اور غیر اسلامی پالیسی پر کاربند ہوتا تو وہ مصر، تیونس، لیبیا اور یمن میں سنی مسلمانوں کی بیداری کی تحریکوں کی حمایت نہ کرتا اور پھر ملک کے اندر اکثر سنی علماء اس نظام کے سپاہی کہلوا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ ایک ایسے نظام پر، جو مغرب اور عالمی صہیونیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کفر و استکبار کو للکار رہا ہے، ہر مسلمان کو فخر محسوس ہوتا ہے اور اس بات کا ثبوت ایران کے قائدین کی عالمی مقبولیت ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران اپنی استقامت اور اسلامی حکومت نیز استکبار دشمنی کی وجہ سے ایک زبردست سافٹ پاور کی حیثیت رکھتا ہے اور آل سعود کی مطلق العنان حکومت، جو اقتدار میں رہنے کے لئے جواز امریکہ، یورپ اور اسرائیل سے لیتی ہے اور ان کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے، اس نظام کی اس طاقت ہر ضرب لگانے کے درپے ہے گو کہ یہ ہدف بھی تیل کی دولت کی وجہ سے عیاش بننے والے سعودی شہزادوں کا ہدف نہیں ہے بلکہ مغرب اور اسرائیل کا ہدف ہے۔انھوں نے کہا کہ مولوی جنگی زہی کا قتل درحقیقت ایران کے سافٹ پاور کو کم کرنے کی سازش تھی اور مغربی طاقتیں ایران کی اس طاقت کو کمزور کرنے کے لئے اپنے علاقائی کٹھ پتلیوں کی خدمات سے بھرپور استفادہ کررہے ہیں اور اس کے لئے دہشت گردی کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کے اندر اور بحرین میں بھی آل سعود کے مظالم بھی اسی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ مولوی جنگی زہی پر مولوی عبدالحمید جنگی زہی کی پر اسرار خاموشیمولوی جنگی زہی مشرقی ایران میں انقلابی بصیرت کی بنیاد پر پہچانے جاتے تھے اور اسلامی انقلاب کے دشمنوں کے لئے ایک چیلنچ سمجھے جاتے تھے۔ مولوی جنگی زہی شہر "راسک" کے امام جمعہ بھی تھے اور علاقے میں بسیج کے رزمی دستے کے کمانڈر بھی تھے اور ان کا خیال تھا کہ "ایک بسیجی کو ہر وقت رہبر انقلاب اسلامی کا تابع و فرمانبردار ہونا چاہئے"۔ انھوں نے ایک تقریر میں کہا تھا: "آج ایسے رہبر ہمارے اسلامی نظام کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں جو تمام امور و معاملات سے آگاہ ہیں اور علاقے کے سیاسی مسائل کی درست نگرانی کررہے ہیں اور امام خامنہ ای کی یہی ہوشیاری اور آگاہی ہے جس نے ہمیں شیاطین کے شر سے محفوظ رکھا ہوا ہے"۔ یہ عالم دین سعودی اور امریکی و اسرائیلی ایجنسیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگئے ہیں لیکن زاہدان کی مکی مسجد کے پیش نماز "مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی" جو اپنے لئے سنی مرجعیت کے قائل ہیں، اس واقعے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس جرم کی مذمت کرنے سے گویا انکاری ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ دہشت گردوں کے ہمراز ہیں یا پھر آل سعود کو ناراض کرنے سے خوفزدہ ہیں جہاں کی یاتراؤں سے ان کا بینک بیلنس ٹھیک ٹھاک رہتا ہے۔ راسک شہر کے ایک بسیجی نے اپنے کمانڈر کی شہادت کے بعد ذرائع کو بتایا: "مولوی مصطفی ایسی بسیج کے کمانڈر تھے جو علاقے کی محروم طبقوں کی بھرپور مدد کرتی رہی اور شہید کمانڈر علاقے کے نوجوانوں کے لئے "باپ" کی حیثیت رکھتے تھے"۔انھوں نے کہا: "شہید ہم سے چاہتے تھے کہ رہبر انقلاب کے فدائی رہیں اور دشمنوں کی جانی اور مالی دھمکیوں سے ہرگز نہ ڈریں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انھوں نے اپنے کسی خطاب میں ولایت فقیہ کی حمایت میں اظہار خیال نہ کیا ہو"۔اس بسیجی نے کہا: "مولوی مصطفی کو بہت سے خطروں اور دھمکیوں کا سامنا تھا لیکن کبھی بھی محافظ لے کر سفر کرنے کے قائل دہ تھے اور کہا کرتے تھے کہ شہادت کے لئے ہر دم تیار رہنا چاہئے"۔ سپاہ پاسداران کے کمانڈر: دشمن کا خیال باطل ہےسیستان و بلوچستان کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کمانڈر جنرل علیرضا عظیمی جاہد نے کہا: "دشمن کا یہ خیال باطل ثابت ہوگا کہ سنی علماء کو شہید کرکے علاقے کے عوام کو اسلامی نظام کی حمایت سے باز رکھ سکے گا"۔ انھوں نے شہید مولوی مصطفی جنگی زہی کے جلوس جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیستان و بلوچستان صوبے کے عوام رہبر انقلاب کے فرمانبردار اور ملکی سرحدوں کے محافظ ہیں اور دہشت گردی ان کے عزم راسخ میں خلل نہیں ڈآل سکتی۔انھوں نے کہا: شہید عالم دین علاقے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عملی نمونہ تھے اور ان ہی کے منصوبوں کے نتیجے میں علاقے کے نوجوان بسیج میں شامل ہوئے، انھوں نے علاقے میں "صالحین کے جلقے" تشکیل دیئے اور جنگی دستے کے کمانڈر نیز ایک مکمل بسیجی تھے۔انھوں نے کہا: دشمنوں کو جان لینا چاہئے کہ مولوی جنگی زہی کو وہ اسلامی نظام سے چھین نہیں سکے ہیں بلکہ شہید کا خون ان جیسے درجنوں افراد پیدا کرے گا اور ان کی راہ زیادہ قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ شہید مولوی مصطفی جنگی زہی شہادت کے لئے ہر دم تیار تھےسیستان و بلوچستان کے سلمان کور میں نمائندہ ولی فقیہ "حجۃالاسلام والمسلمین باقری" نے کہا: شہید مولوی مصطفی جنگی زہی کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ بابصیرت بھی تھے اور بسیجی بھی تھے۔ انھوں نے کہا: میری شہید کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں اور میں نے جب بھی انہیں دیکھا محسوس کیا کہ وہ شہادت کے لئے بالکل تیار ہیں۔ انھوں نے کہا: شہید جنگی زہی موقع شناس تھے، روزمرہ کے سیاسی مسائل سے بخوبی آگاہ تھے، فعال بسیجی تھے اور دین شناس عالم تھے اور دشمنان اسلام ایسے مؤمن اور پاکیزہ انسانوں کو بھی کبھی برداشت نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا: دشمنوں کے پاس ایسے بزرگوں کو منظر عام سے ہٹانے اور قتل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لیکن وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ ان افراد کی شہادت کی وجہ سے عو
28 جنوری 2012 - 20:30
News ID: 293330
متعدد شواہد و قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کے حوالے سے دہشت گردانہ اور تخریبکارانہ کاروائیوں میں ملوث ہے۔